ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹریفک نظام کو درہم برہم کرتی ’’گاؤ ماتا‘‘ جون کے بعد بی بی ایم پی نے کسی آوارہ جانور کو نہیں پکڑا

ٹریفک نظام کو درہم برہم کرتی ’’گاؤ ماتا‘‘ جون کے بعد بی بی ایم پی نے کسی آوارہ جانور کو نہیں پکڑا

Mon, 25 Dec 2017 14:16:38    S.O. News Service

بنگلورو، 24 ؍دسمبر(ایس او نیوز)راستوں کے گڑھے، راستوں کی تعمیرات کے معیار کی بد حالی، ٹریفک سگنلوں میں بے ترتیبی اور غیر منصوبہ بند انتظامیہ نے بنگلور شہر کو پہلے ہی سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا، اس کے بعد کچھ لوگوں نے جا کر شہر کے راستوں پر ہاکرس، راستہ کاٹنے والی سواریاں، غلط رخ پر گاڑیاں چلانے والے، تیز رفتار ڈرائیونگ، کرتب بازوں اور جگہ جگہ پان کھا کر تھوکتنے والوں (جی ہان ! اس فہرست میں آٹو ڈرائیوروں کو بھلایا نہیں جا سکتا)اور دوسرے تمام طرح کے ذہنی معذوروں کو ہمارے شہر کے راستوں پر کھلا چھوڑ دیا تھا۔لیکن اس سب کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ بنگلور کو چت کرنے کے لئے یہ تمام چیزیں کافی نہیں ہیں۔ کچھ عقلمندوں نے اس کے بعد خیال کیا کہ شہر کے راستوں پرہر طرح کے مویشیوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔اس لئے اب آپ کو ان تمام بد حالیوں کے ساتھ کچھ نئے حالات کا بھی سامنا ہے۔’’گاؤ ماتا‘‘ اس وقت ملک بھر میں امن و سلامتی کے نقطہ نظر سے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے تو بنگلور شہر کے پہلے ہی سے تکلیف دہ راستوں کو ان گایوں کی وجہ سے نئی پریشانیوں کا سامنا ہے۔خاص طور پر بد مست گائیں اس بات سے بے خبر کہ انہوں نے کتنی بڑی تعداد میں سواریوں کو روک رکھا ہے، بڑے ہی سکون کے ساتھ راستوں کے درمیان گھومتی ہوئی آپ کو مل جاتی ہیں۔خاص طور پر شہر کا ٹیک کاریڈور اس مسئلہ سے بہت سے جوج رہا ہے، کندنا ہلی گیٹ سگنل پر ان مویشیوں کی وجہ سے ہمیشہ ہی ٹرافک کا اژدھام لگا رہتا ہے۔اے ای سی ایس لے آؤٹ کے ایک مکین وجے کمار ریڈی نے بتایا کہ ’’میں اسی سگنل کے قریب اپنا ایک کاروبار چلاتا ہوں اور ہر دن صبح اس مسئلہ کا مشاہدہ کرتا ہوں، تقریباً دس گائیں یہاں سگنل کے پاس آکر رک جاتی ہیں، اصل راستے پہلے ہی سے تنگ ہیں اور ان کی وجہ سے افراتفری اور بڑھ جاتی ہے‘‘۔راہگیروں اور گاڑی سواروں کی اس شکایت میں بالکل حقیقت پوشیدہ ہے اس لئے کہ جون کے مہینہ کے بعد سے بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) کے محکمہ برائے مویشی پالن نے کسی بھی آوارہ جانور کو راستوں پر سے نہیں پکڑا ہیاس کی وجہ یہ ہے کہ جانوروں کو پکڑنے والی بی بی ایم پی کی سواری کے واحد ڈرائیور نے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا۔اس واحد ڈرائیور کی وظیفہ یابی کے بعد جولائی کے مہینہ سے بی بی ایم پی نے راستوں پر آوارہ گردی کرتی ہوئی گائیوں کو پکڑنے کے سلسلہ کی تمام سرگرمیوں کو موقوف کر دیا تھا۔مویشی پالن محکمہ کے جائنٹ ڈائرکٹر جی آنند نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ جون 2017 تک بی بی ایم پی نے کل 125 آوارہ مویشی پکڑے تھے جبکہ پچھلے سال ان کی تعداد تقریبا500 تھی۔واضح رہے کہ بی بی ایم پی راستوں پر آوارہ گھومتی ہوئی گائیں اور دوشرے مویشیوں کو پکڑنے کے بعد انہیں کے آر مارکیٹ کے قریب بی عثمان خان روڈ پر واقع بلدیہ کے جانوروں کے پاؤنڈ پر لے جاتی ہے۔

مسئلہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’آپ کسی آدمی کو گاؤں سے باہر نکال سکتے ہیں لیکن گاؤں کو کسی آدمی سے باہر نکالنا ناممکن ہوتا ہے‘‘۔بنگلور شہر کے مضافات میں جو کبھی بہت سارے گاؤں ہوا کرتے تھے جو کہ اب بنگلور شہر کا حصہ بن گئے ہیں، ان سب کا ایک بڑا بھاری مقصد ہے ۔۔۔ بنگلور شہر میں مواصلاتی ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں کے فروغ کے ذریعہ جو معاشی اور اقتصادی ترقی آرہی ہے اس میں سے اپنا حصہ حاصل کریں۔لہٰذاجو کچھ بھی تھوڑے بہت ہریالی کے مقامات ان جانوروں کو چرنے کے لئے باقی رہ گئے تھے وہ سب بھی ہمہ منزلہ عمارتوں میں تبدیل ہوتے چلے گئے اور جانور راستوں پر آگئے۔ چونکہ ان مویشیوں کو جانے کے لئے کہیں جگہ نہیں ہوتی وہ آرام کے ساتھ خود کو ان مصروف راستوں پر کھڑا کر لیتی ہیں، شاید خود اپنی سوچ اور سمجھ کی بنیاد پر یا پھر قریب میں موجود کوڑا کرکٹ میں کھانے کی اشیاء مل جانے کی امید پر۔انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے مرکز برائے بنیادی ڈھانچہ، قابل نفاذ نقل و حمل اور شہری منصوبہ بندی کے معاون تدریسی رکن اور شعبہ برائے سیول انجنئیرنگ کے معاون پروفیسر ڈاکٹر اشیش ورما کا کہنا ہے کہ ’’یہ ہمارے ملک کا قدیم زمانہ سے چلا آرہا رواج ہے اور اس مسئلہ کا حل کافی مشکل ہے، یا تو ان جانوروں کو چرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی یا انہیں رہنے کے لئے جگہ کی قلت ہوگی، ہمیں چاہئے کہ اس بات کی پہلے تحقیق کریں اور اصل سبب کا پتہ لگائیں‘‘۔انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کیا جب وہ جرمنی میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے اور وہاں ایک دیگر مندوب نے اس مسئلہ میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا، پروفیسر اشیش نے بتایا کہ ’’یہ سال 2008 کی بات ہے، اس نے کہا تھا کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار ہندوستان کا دورہ کرنا چاہتا ہے، اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان میں ٹریفک کے مقابلہ گائیں اور گدھوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، اس کی یہ بات سن کر میں تو حیران رہ گیا تھا‘‘۔

کیسے حل کیا جائے؟راستوں کے تحفظ سے متعلق عالمی بینک کے مشیر لوکیش ہیبانی کا کہنا ہے کہ اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے ان مویشیوں کے مالکان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ’’کچھ دن پہلے میں نے بی بی ایم پی کے کمشنر سے سوال کیا تھا کہ بنگلور شہر کے راستوں پر مویشیوں کی موجود گی کے سلسلہ میں کیوں کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا ہے، لیکن مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ان تمام مویشیوں کو پکڑ کر انہیں راستوں سے اٹھا لیا جائے بالکل اسی طرح جیسے کہ ٹرافک پولیس غلط جگہ کھڑی کی گئی سواریوں کو اٹھا لے جاتی ہے اور ان مویشیوں کو اسی وقت چھوڑا جانا چاہئے جب اس کے مالکان چار تا پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ ادا کریں اور جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے ایک سو روپئے لے کر انہیں چھوڑ دیا جانا مناسب نہیں ہے۔ان مالکان کے خلاف ’’جانوروں کے خلاف مظالم سے تحفظ قانون ‘‘کے تحت مقدمہ دائر کیا جانا چاہئے اس لئے کہ ان کے مالکان ان مویشیوں کی دیکھ بھال نہیں کرتے اور انہیں راستوں پر چھوڑ دیتے ہیں اور آپ نہیں جان سکتے کہ کب یہ جانور کسی حادثہ کا شکار ہو جائیںیا پھر یہ کہ آپ اس افرا تفری کی وجہ سے کب کسی حادثہ سے دو چار ہوں گے‘‘۔ایک ٹریفک پولیس افسر جو اپنی شناخت مخفی رکھنا چاہتے تھے نے بتایا کہ راستوں پر گائیں کھلی چھوڑ دینا کرناٹک پولیس قانون کے تحت جرم ہے، انہوں نے بتایا کہ ’’ہم ان جانوروں کے مالکان کے خلاف مقدمہ دائر کرکے ان جانوروں کو ضبط بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ کام بی بی ایم پی کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کچھ سال قبل تک ٹرافک پولیس اپنی اس ذمہ داری کو نبھا رہی تھی اور اس طرح راستوں پر پائے جانے والے جانوروں کو پکڑ لیا جاتا تھا اور انہیں کیٹل پاؤنڈ لے جاتے، لیکن اب شہر میں بڑھتی ہوئی ٹرافک کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں میں پہلے ہی سے کام زیادہ ہو گیا ہے اور مزید کسی ذمہ داری کا بوجھ سہارنا مشکل ہے‘‘۔ بی بی ایم پی ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت جلد وہ دوبارہ آوارہ جانوروں کو پکڑنے کے کام کا آغاز کرنے والی ہے، آنند نے بتایا کہ ’’بی بی ایم پی نے ان خدمات کو خانگی اداروں کے حوالہ کر دیا ہے، دسمبر کی ایک تاریخ سے ہی ایک خانگی ڈرائیور کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں‘‘۔ آنند کا یہ بھی کہنا ہے کہ آوارہ مویشیوں کا مسئلہ زیادہ تر شہر کے درمیانی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔واضح رہے کہ بی بی ایم پی کی طرف سے آوارہ چھوڑ دئے جانے والے جانوروں کے مالکان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ، بڑے جانوروں کے لئے یہ جرمانہ چھ سو روپئے ہوتا ہے جبکہ چھوٹے جانوروں کے لئے تین سو روپئے وصول کئے جاتے ہیں۔آنند نے بتایا کہ ’’جرمانہ کی یہ رقم جانوروں کی دیکھ بھال کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور اسی سے انہیں جارہ اور پانی وغیرہ حاصل کیا جاتا ہے، ہم تین دن تک ان جانوروں کے مالکان کا انتظار کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کا دعوی لے کر نہیں آتا ہے تو ہم انہیں کارمنگلہ میں واقع اکھیلا کرناٹک پرانی دیا سنگھا کی طرف سے چلائے جارہے مرکز میں روانہ کر دیتے ہیں‘‘۔
 


Share: